بنگلورو،6/فروری(ایس او نیوز) کروڑوں روپے کے آئی ایم اے گھپلہ کے بعد اس کمپنی کی املاک کو ضبط کرنے اور انہیں نیلام کرواکر سرمایہ کاروں کو رقم لوٹانے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی کامپی ٹنٹ اتھارٹی کی طرف سے اس سمت میں کام جاری ہے لیکن اس کی توقع ہر گز نہ کی جائے کہ آئی ایم اے میں سرمایہ لگانے والوں کو رقم جلدی مل سکے گی۔ تمام قانونی کارروائیوں کی تکمیل میں کتنا وقت لگ سکتا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا یا جا سکتا۔ یہ بات چہارشنبہ کے روز اس کامپی ٹنٹ اتھارٹی کے سربراہ اور ریاست کے سینئر آئی اے ایس آفیسر ہرش گپتا نے بتائی۔
70ہزار شکایتیں:اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10جون 2019کو جب آئی ایم اے گروپ کی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ فراڈ سامنے آیا اس کے بعد سے اب تک اس کیس کی جانچ کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اور اس کے بعد سی بی آئی کو 70ہزار سے زائد لوگوں کی طرف سے اس گروپ کی مختلف کمپنیوں میں سرمایہ لگاکر رقم گنوانے کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ مزید تقریباً 30ہزا ر افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنا سرمایہ ڈوب جانے کی شکایتیں نہیں کی ہیں اس اعتبار سے آئی ایم اے میں سرمایہ لگانے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہو سکتی ہے۔
2800کروڑ کا سرمایہ: انہوں نے بتایا کہ ایس آئی ٹی اور سی بی آئی کو جو شکایتیں موصول ہوئی ہیں ان کا سرسری حساب لگا کردیکھا جائے تو اس گھپلے میں عوام کا 2800کروڑروپے کے سرمایہ کا غبن کیا گیا ہے۔اب تک آئی ایم اے کے مختلف ٹھکانو ں پر چھاپوں اور کارروائی کے دوران ضبط کی گئی املاک اور دیگر قیمتی اشیاء کے بارے میں ہرش گپتا نے بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی اور ایس آئی ٹی وغیرہ کی طرف سے آئی ایم اے کی جو املاک ضبط ہوئی ہے اس کی مجموعی لاگت 450کروڑروپے سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس املاک کو ضبط کرنے کے لئے اب تک جو کارروائی کی گئی ہے وہ قانونی اعتبار سے کچی ہے۔ اس کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے ایک اسپیشل کورٹ قائم ہونے جا رہا ہے جیسے ہی کورٹ میں اس معاملے پر کارروائی شروع ہوگی آئی ایم اے کی املاک کو ضبط کرنے کی کارروائی کو قطعیت دی جائے گی۔ اس عمل کے دوران اگر کسی نے آئی ایم اے کی ملکیت کو اپنی قرار دے کر عدالت سے رجوع کرلیا تو اس عمل میں مزید تاخیر کا بھی اندیشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کیس میں کارروائی کو سیول کورٹ کی سطح پر ہی آگے بڑھایا جاتا ہے تو اس میں تاخیر ضرور ہو گی۔